سیاسیات- ہنگری نے اپنے دوست ملک اسرائیل سے یاری نبھانے کے لیے عالمی فوجداری عدالت کے وارنٹِ گرفتاری ہونے کے باوجود نیتن یاہو کو گرفتار نہیں کیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ہنگری کے وزیراعظم وکٹر اوربان نے اپنے اسرائیلی ہم منصب نیتن یاہو کا پُرتپاک استقبال کیا۔
ہنگری کے وزیراعظم نے نیتن یاہو کو خوش آمدید کہا اور پُرتکلیف کھانوں سے تواضع بھی کی حالانکہ عالمی فوجداری عدالت نے نیتن یاہو کے وارنٹ گرفتاری جاری کر رکھے ہیں۔
عالمی فوجداری عدالت کا رکن ہونے کی حیثیت سے ہنگری کی یہ اخلاقی ذمہ داری تھی کہ وارنٹ گرفتاری کے فیصلے پر عمل درآمد کرے۔
تاہم ہنگری کے وزیراعظم نے عالمی قوانین کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے نہ صرف فیصلے پر عمل درآمد نہیں کیا بلکہ عالمی فوجداری عدالت سے علیحدہ ہونے کا اعلان بھی کردیا۔
جس پر آئی سی سی کے ترجمان فادی عبداللہ نے ہنگری کو یاد کرایا کہ وہ باضابطہ علیحدگی ہونے تک رکن ہے اور اُس وقت تک عدالت کے ساتھ تعاون کرنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
یاد رہے کہ عالمی فوجداری عدالت نے غزہ میں سنگین جنگی جرائم کا مرتکب ہونے پر نومبر میں اسرائیلی وزیر اعظم اور وزیر دفاع کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔
جسے بالائے طاق رکھتے ہوئے ہنگری کے وزیر اعظم نے اسرائیلی وزیراعظم کو دورے کی دعوت دی تھی۔
رواں برس فروری میں اقتدار سنبھالنے کے ایک ماہ بعد ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی فوجداری عدالت کے پراسیکیوٹر کریم خان پر پابندیاں عائد کی تھیں۔
یہ وہی کریم خان ہیں جنھوں نے عالمی فوجداری عدالت سے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے وارنٹِ گرفتاری حاصل کیے تھے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے اس فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے ہنگری کے وزیراعظم وکٹر اوربان نے کہا تھا کہ ہم ایک ایسے عالمی ادارے کا حصہ کیوں رہیں جو امریکی پابندیوں کی زد میں ہے۔
ہنگری کے وزیراعظم وکٹر اوربان کے عالمی فوجداری عدالت سے دستبرداری کے اعلان کے بعد انھیں پارلیمان سے منظوری بھی لینا ہوگی۔
پارلیمان میں وکٹر اوربان کی پارٹی کے اکثریت میں ہونے کے باعث یہ منظوری بآسانی حاصل ہوجائے گی۔
جس کے بعد ہنگری عالمی فوجداری عدالت سے انخلا کے لیے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو رسمی خط بھیجے گا اور ایک سال کے عرصے میں باضابطہ طور پر آئی سی سی سے علیحدہ ہوجائے گا۔
واضح رہے کہ عالمی فوجداری عدالت سے اب تک دوممالک برونڈی اور فلپائن نے علیحدگی اختیار کی ہے۔