اپریل 5, 2025

پاکستان کی اقوام متحدہ کونسل میں اسرائیل مخالف تجویز کو امریکہ نے کمزور کیا: روئٹرز

سیاسیات۔ سات سفارتکاروں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا ہفتے کو کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے علیحدگی کا اعلان تو دو ماہ قبل کر دیا تھا لیکن امریکہ اب بھی کونسل کے کام پر اثر انداز ہو رہا ہے، جس کا شکار پاکستان کی حالیہ اسرائیل مخالف تجویز بھی ہوئی۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ امریکہ نے 47 ممبران پر مشتمل چھ ہفتے پرمحیط سیشن میں تو غیر حاضری رکھی تاہم اس کے دباؤ اور سفارت کاری کا اثر معاملات پر پڑا۔

ذرائع کے مطابق امریکہ نے پاکستان کی جانب سے پیش کردہ ایک سخت تجویز کو کمزور کرنے پر توجہ مرکوز کر دی، جس میں اسرائیل کے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں کارروائیوں کی تحقیقات کے لیے اقوامِ متحدہ کا ایک خودمختار، غیرجانبدار اور آزاد میکانزم (IIIM) بنانے کا کہا گیا تھا۔

فلسطینی علاقوں کے حوالے سے کونسل نے ایک انکوائری کمیشن پہلے سے قائم کر رکھا ہے لیکن پاکستان کی تجویز کے تحت اضافی اختیارات کے ساتھ بین الاقوامی عدالتوں میں ممکنہ استعمال کے لیے شواہد اکٹھے کرنے کے ساتھ اضافی تحقیقات کا آغاز ہو سکتا تھا۔

کونسل، جس کا مشن دنیا بھر میں انسانی حقوق کو فروغ دینا اور ان کا تحفظ کرنا ہے، نے پاکستان کی تجویز کا جو ورژن بدھ کو منظور کیا اس میں آئی آئی آئی ایم کی تشکیل شامل نہیں تھی۔

امریکی کانگریس کے دو سربراہان کی جانب سے 31 مارچ کو بھیجی گئی ایک خط میں ایچ آر سی کے رکن ممالک کو خبردار کیا گیا کہ ’اگر انہوں نے اسرائیل کے خلاف مخصوص میکانزم کی حمایت کی تو انہیں بھی وہی نتائج بھگتنا ہوں گے جو آئی سی سی کو اسرائیلی وزیرِ اعظم کے وارنٹ پر بھگتنا پڑے۔‘

یہ خط امریکی ایوان کی خارجہ امور کی کمیٹی کے چیئرمین برائن مسٹ اور سینیٹ کی کمیٹی برائے خارجہ تعلقات کے چیئرمین جیمز آر رِش کی طرف سے بھیجا گیا۔

پاکستان کی تجویز کے حتمی ورژن میں مستقبل میں آئی آئی آئی ایم پر غور کرنے کے لیے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی دعوت کا حوالہ دیا گیا ہے۔

جنیوا میں مقیم دو سفارت کاروں نے کہا کہ انہیں الفاظ کی تبدیلی سے قبل امریکی سفارت کاروں کی جانب سے پیغامات موصول ہوئے تھے کہ وہ نئی تحقیقات کی مخالفت کریں۔

ایک نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’وہ (امریکی سفارت کار) کہہ رہے تھے کہ اس معاملے سے دور جاؤ۔‘

روئٹرز یہ تصدیق نہیں کرسکا کہ آیا یہ نظرثانی امریکی کارروائیوں کا براہ راست نتیجہ تھی۔

پاکستانی مشن نے روئٹرز کو اس حوالے سے کوئی جواب نہیں دیا۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا کہ وہ چار فروری کو ٹرمپ کے دستخط کردہ ایگزیکٹو آرڈر کی تعمیل کر رہا ہے جس میں امریکہ کونسل میں شمولیت سے دستبردار ہوا۔

انہوں نے مزید کہا: ’بطورپالیسی ہم نجی سفارتی بات چیت پر تبصرہ نہیں کرتے ہیں۔‘

انسانی حقوق کے ایک ماہر فل لنچ نے کہا کہ بین الاقوامی ادارے اب ایک نازک موڑ پر کھڑے ہیں، جہاں ’قانون کی جگہ بے دریغ طاقت‘ لی سکتی ہے۔

امریکہ اور اسرائیل کونسل کے رکن نہیں ہیں لیکن، اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک کی طرح غیر رسمی مبصر کی حیثیت رکھتے ہیں اور کونسل کے اجلاس چیمبر میں ایک نشست بھی ملی ہوئی ہے۔

امریکہ کبھی اقوام متحدہ کے حقوق کے نظام کا سب سے بڑا عطیہ دہندہ تھا، لیکن ٹرمپ نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ ’اچھی طرح سے کام نہیں کر رہا ہے‘ اور ان کی انتظامیہ نے امدادی کٹوتیوں بھی شروع کر دی ہیں۔

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

two × 1 =