سیاسیات- جب مقامی ریڈ انڈینز نے آج کے جدید دور کے امریکیوں کے آباؤ اجداد کا اپنی سر زمین پر استقبال کیا تھا اور انہیں رہنے کیلئے چھت اور کھانے کیلئے خوراک فراہم کی تھی تو امریکیوں کے آباؤ اجداد نے اس استقبال کا جواب بندوقوں اور گولیوں کی شکل میں دیا تھا۔ وقت بدل چکا ہے لیکن حالات وہی ہیں اور یہ روایت نسل در نسل چلتی آ رہی ہے۔
امریکا نے ہر مرتبہ ثابت کیا ہے کہ وہ دیگر اقوام کیلئے ایک سازشی اور ناقابل بھروسہ ’’دوست‘‘ ہے۔ قارئین کو یہ خبر شاید یاد ہو کہ کچھ عرصہ قبل جب فرانس کے صدر ایمانوئیل میکروں نے شکایت کی تھی کہ یورپی یونین امریکا کی توانائی کے شعبے کو ہوشربا قیمت ادا کر رہا ہے، اس کے بعد کیا ہوا – امریکا اور برطانیہ نے مل کر جوہری آبدوزوں کا جو ٹھیکہ فرانس نے آسٹریلیا سے حاصل کیا تھا وہ چھین لیا۔
فرانسیسی وزیر خارجہ ژان یویس لی دغین نے اس واقعے کو پیٹھ میں چھرا گھونپنا قرار دیا تھا۔ امریکا کے یورپی شراکت داروں میں صرف فرانس ہی اس کا متاثرہ ملک نہیں۔ جب بات اپنے دشمنوں یا پھر اتحادیوں کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی آتی ہے تو امریکا کی چال بازیوں میں سب سے ترجیحی چال جیو پولیٹیکل تنازع پیدا کرنا رہا ہے۔
تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ کس کامیابی سے امریکا کی یہ چال ہر مرتبہ کامیاب رہی ہے۔ سوویت یونین میں تعینات امریکی ناظم الامور جارج کینن کی جانب سے 8؍ ہزار الفاظ پر مشتمل طویل ترین خط المعروف ’’لانگ ٹیلی گرام‘‘ (ایکس آرٹیکل) لکھے جانے کے واقعے سے لیکر یوکرین کے جاری تنازع تک دیکھا جا سکتا ہے کہ امریکا نے کب کیسے اور کیا کھیل کھیلا ہے۔ امریکہ کیلئے یوکرین کی صورتحال دراصل ایک سنہرا موقع ہے۔
اس تنازع کی وجہ سے نہ صرف پرانی بین البراعظمی فوجی تنظیم (نیٹو) کو متحرک کرنے کا موقع ملا ہے بلکہ یورپ والوں کیلئے کاروبار اور تعاون کے امکانات اور مواقع کو محدود کرنے میں بھی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔
یوکرین کو ’’لڑو، لڑو اور آخری یوکرینی کے مرنے تک روس کیخلاف دفاع کرو‘‘ جیسے الفاظ سے حوصلہ افزائی کرکے امریکا نے اپنے عسکری کاروبار کو چار چاند لگا دیے ہیں اور اس کی فوجی ساز و سامان بنانے والی کمپنیوں کے حصص میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔
مارچ میں کیپٹول ہل کی ایک رپورٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ نئے سال کے آغاز سے لیکر اب تک لاک ہیڈ مارٹن کے اسٹاک میں 25؍ فیصد، ریتھیان، جنرل ڈائنامکس اور نارتھروپ گرومن میں سے ہر ایک کے اسٹاک میں 12-12؍ فیصد اضافہ ہوا ہے۔
جیسے جیسے یہ تنازع بڑھتا گیا، امریکا نے یورپ میں اپنی فوجی موجودگی بھی بڑھا دی۔ 29؍ جون کو امریکی محکمہ دفاع نے تصدیق کی کہ تنازع شروع ہونے سے لیکر اب تک یورپ میں اضافی 20؍ ہزار فوجیوں کو تعینات کر دیا گیا ہے۔ اس صورتحال نے یورپ میں عسکری موجودگی کم رکھنے کا 30؍ سالہ ریکارڈ توڑ دیا۔
اسٹریٹجک سطح پر دیکھا جائے تو امریکا نے کامیابی سے نیٹو کے ’’مردہ دماغ‘‘ کو زندہ کر دیا ہے اور یورپ والوں کے دفاعی آزادی حاصل کرنے کے خواب کو چکنا چور کر دیا ہے
اس تمام تر صورتحال کے تناظر میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا امریکا نے اپنے اتحادیوں کو ’’کبھی تنہا نہ چھوڑنے‘‘ کا وعدہ پورا کیا ہے؟ یہاں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ افغانستان کے ساتھ کیے گئے اسی وعدے کا امریکا نے گزشتہ سال کیا حشر کیا۔
اب یورپ والے صرف ایک مصیبت میں نہیں پھنسے ہوئے۔ یورپ والوں کو یہ یاد رکھنا چاہئے کہ امریکا دوسروں کی قیمت پر کبھی اپنے قومی مفادات پر سمجھوتا نہیں کرتا چاہے یہ ’’دوسرے‘‘ اس کے اپنے اتحادی ہی کیوں نہ ہوں۔
اتحادیوں کے ساتھ امریکیوں کی بات چیت میں ذرا اِن الفاظ پر غور کریں کہ کیسے یہ الفاظ استعمال کرتے ہوئے اپنا پن دکھایا جاتا ہے: ’’ہماری اقدار مشترکہ ہیں‘‘ یا پھر ’’ہم ہم خیال جمہوریتیں ہیں۔‘‘ بھلا ہو ٹرمپ حکومت کا جس نے یورپ کی اسٹیل اور المونیم کی درآمدات پر پابندی عائد کرکے بے باکی کے ساتھ امریکا کے عزائم کا پردہ چاک کیا۔ اب جبکہ روس کے ساتھ یورپ کے تعلقات خراب ہوتے جا رہے ہیں، یورپ کا امریکی تیل اور گیس پر انحصار بڑھ گیا ہے اور اب وہ آئندہ موسم سرما میں اپنی ضروریات پوری کرنے کے قریب ہے۔
امریکا کی نظر میں اس وقت شرارتی بچہ (مشکل پیدا کرنے والا ملک) جرمنی ہے کیونکہ یہ سابق جرمن چانسلر انجیلا مرکیل تھیں جنہوں نے روس کے ساتھ گیس معاہدے ’’نورڈ اسٹریم‘‘ کا آغاز کیا تھا۔
برسوں سے امریکا اس منصوبے کو سبوتاژ کرنے کا خواہشمند رہا ہے اور اس کی کوششیں بھی کی ہیں اور جرمنی کو امریکا کی دھونس دھمکیوں کا سامنا بھی رہا ہے کہ یہ منصوبہ ترک کیا جائے۔ یوکرین تنازع شروع ہونے کے نتیجے میں جرمنی سمیت یورپ کے کئی ملکوں کو روس کی ’’آمرانہ خوراک‘‘ (گیس) چھوڑنا پڑی اور امریکا کی ’’جمہوری خوراک‘‘ کا استعمال شروع کر دیا گیا۔
انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے مطابق، امریکا کی یورپ کو گیس برآمدات جون میں روس کے مقابلے میں انتہائی حد تک بڑھ گئی۔ امریکا کا یورپ میں فروخت ہونے والا گیس کارگو 200؍ ملین ڈالر منافع پر فروخت ہو رہا ہے۔
توانائی کے شعبے میں انوسٹمنٹ بینکر لورینٹ سیگالین کا کہنا ہے کہ امریکی کمپنیوں کا ایک بحری جہاز 60؍ ملین ڈالرز کی گیس لیکر بحر اوقیانوس عبور کرکے یورپ پہنچتا ہے اور 275؍ ملین ڈالرز لیکر واپس چلا جاتا ہے۔ اسی صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے فرانسیسی صدر نے کہا تھا کہ ’’دوستی کے اصل معنی یہ نہیں ہیں۔‘‘
انہوں نے اس بات کا اشارہ دیا کہ یورپی ممالک اُس قیمت سے چار گنا زیادہ ادا کر رہے ہیں جس قیمت پر امریکا اپنے ملک میں گیس فروخت کر رہا ہے، شاید یہ دوستی ہے ہی نہیں۔ امریکا یورپی ممالک سے اضافی ادائیگی کا تقاضا کر رہا ہے اور یہ اضافی قیمت دراصل ’’جمہوری اقدار‘‘ کی قیمت ہے جو امریکی گیس سے جڑی ہیں۔
جس وقت یورپ والے اپنے گیس کے ذخائر میں اضافہ کرکے موسم سرما سے نمٹنے کی تیاریوں میں مصروف ہیں وہیں امریکا اپنے بینکوں میں ڈالر جمع کیے جا رہا ہے اور عالمی معیشت کی قیمت پر ڈالر کو مستحکم کرکے اور شرح سود میں 75؍ بیس پوائنٹس کا اضافہ کرکے مہنگائی کو توڑنے کی بھی کوشش کر رہا ہے۔ یاد رہے کہ امریکا نے رواں سال شرح سوُد میں 6؍ مرتبہ اضافہ کیا ہے اور 2000ء کے بعد یہ شرح اپنی بلند ترین سطح پر ہے۔ جتنا ڈالر مضبوط ہوتا جا رہا ہے، یورپین یونین، اس کی معیشت اور کرنسی کا نقصان ہو رہا ہے۔
کیپیٹل آرٹیکل کے مطابق، اس وقت یورو اور ڈالر کی شرح مبادلہ 99؍ سینٹ سے کم ہو گئی ہے اور یہ 20؍ سال کی تاریخ میں اپنی نوعیت کی کم ترین سطح ہے۔ ڈالر کو مضبوط کرنے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے خطرات کو نظرانداز کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ یورپ سمیت دنیا کے دیگر حصوں میں معیشت ہی خراب ہے اور اسی لیے عالمی معیشت گھسٹ گھسٹ کر چل رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری معیشت ایک مضبوط چٹان کی طرح ہے۔ آخر میں اب یہ بات یورپ والوں پر انحصار کرتی ہے کہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کیا کرتے ہیں۔ ’’جان لیوا‘‘ دوست پر انحصار کی بجائے یورپ والوں کو چاہئے کہ وہ اپنی اسٹریٹجک خود مختاری کیلئے سنجیدگی سے اقدامات کریں اور لالچی دوست کی بجائے اصل دوست (FRIEND INDEED RATHER THAN A FRIEND IN GREED) کی پہچان کریں۔