مارچ 29, 2025

واشنگٹن تہران کے ساتھ عارضی معاہدے کے لئے کوشاں

سیاسیات- واشنگٹن تہران کے ساتھ ایک عارضی معاہدہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ ایران پہلے ہی اس امریکی تجویز کو مسترد کر چکا ہے

امریکی Axios ویب سائٹ نے پیر کے روز ایک اعلان میں کہا ہے کہ امریکہ نے یورپ ممالک اور صہیونی حکومت کے ساتھ تہران پر جاری بعض پابندیوں کو کم کرنے کے بدلے میں ایران کے ایٹمی پروگرام کو محدود کرنے کے بارے میں مذاکرات کی خبر دی ہے۔

اس ویب سائٹ کے مطابق “بائیڈن” حکومت نے ایران کے بارے میں مذکورہ بالا تجویز پر فرانس، جرمنی، انگلینڈ اور صہیونی حکومت کے ساتھ گزشتہ فروری میں بات چیت کی ہے۔Axios نے اپنے باخبر مغربی اور اسرائیلی ذرائع کے حوالے سے اعلان کیا ہے کہ ایران پہلے ہی اس امریکی پیشکش کو مسترد کر چکا ہے۔

اس ذرائع نے وائٹ ہاؤس کے ترجمان کے حوالے سے کہا ہے کہ “بائیڈن ایران کو جوہری ہتھیار سے روکنے کیلئے پرعزم ہیں اور اس کے حصول سفارت کاری کے ذریعے سے ہی ممکن ہے۔

واضح رہے کہ یہ خبر اس وقت منظر عام پر آگئی ہے کہ اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران جوہری معاہدے کے مذاکرات میں داخل ہونے میں سنجیدہ نہیں ہے!مغربی اور امریکی فریقوں کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزی اور 2018ء میں اس معاہدے سے واشنگٹن کی یکطرفہ دستبرداری کے باوجود امریکی وزیر خارجہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ اب واشنگٹن کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے۔

بلنکن نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ “ماضی میں جب ہم نے جوہری معاہدے کی طرف واپسی کی کوشش کی تو تہران نے معاہدے کے بارے میں یورپ کی تجویز کو مسترد کر دیا تھا۔” ہم ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کیلئے پرعزم ہیں اور اس مقصد کیلئے سفارت کاری سب سے مؤثر آپشن ہے۔

یاد رہے کہ امریکی وزیر خارجہ کے ایران مخالف بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایک ماہ قبل انہوں نے ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات کی گیند تہران پر گراتے ہوئے کہا تھا کہ واشنگٹن کے نزدیک اس مسئلے سے نمٹنے کیلئے اب بھی سفارت کاری ہی سب سے مؤثر طریقہ ہے۔

دریں اثنا، ایران اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے 5 مستقل ارکان کے درمیان طے پانے والے مشترکہ جامع منصوبے کو امریکہ کے یکطرفہ اقدام سے نقصان پہنچا، کیونکہ امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یکطرفہ طور پر قرارداد کی خلاف ورزی کی۔ 2018ء میں ٹرمپ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے قوانین کی خؒلاف ورزی کرتے ہوئے اس معاہدے سے دستبردار ہوئے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ امریکی موجودہ صدر جو بائیڈن پہلے ہی کئی بار دعویٰ کر چکے ہیں کہ واشنگٹن تہران کے ساتھ جوہری مذاکرات کیلئے تیار ہے۔

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

sixteen + nineteen =