سیاسیات- ایران نے کہا ہے کہ اسکول طالبات کو زہر دینے کے الزامات کی تحقیقات کے دوران اس چیز کے کوئی ثبوت نہیں ملے۔
ذرائع کے مطابق ایرانی انٹیلی جنس کی وزارت نے کہا کہ غیر ملکی انقلاب دشمن عناصر طالبات کو زہر دینے کے مشتبہ واقعات پر خوف پھیلا رہے ہیں۔
سرکاری میڈیا کی جانب سے سامنے آنے والی وزارت کی رپورٹ میں کہا گیا کہ اس بحران کو ہوا دینے میں دشمنوں کا کردار یقینی اور ناقابل تردید ہے، دشمن افراد، گروہوں اور مغربی میڈیا، غیر ملکی سیاست دانوں اور عالمی اداروں نے خاص طور پر فارسی زبان میں گزشتہ کچھ مہینوں میں اس معاملے پر توجہ مرکوز کی ہے۔
رپورٹ میں طلبا کی شرارت اور بڑے پیمانے پر ہسٹیریا کو معاملے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا گیا کہ ان فیلڈ فائنڈنگز اور لیبارٹری تحقیقات میں کوئی ایسا زہریلا مواد نہیں پایا گیا جو پوائزننگ کا سبب بن سکتا ہے اور نہ ہی کوئی موت ہوئی ہے اور نہ ہی طویل مدتی جسمانی تکلیف ہوئی۔
رپورٹ میں مخالفین پر پروپیگنڈہ ویڈیوز تیار کرنے کرکے خوف کو ہوا دینے کی اطلاع دی گئی ہے اور ان افراد، گروہوں، میڈیا کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے کا انتباہ کیا گیا ہے جنہوں نے اس کا الزام حکومت پر لگایا اور ملک دشمنوں کے ساتھ کھڑے ہوگئے۔
حکام نے کہا کہ وہ علما اسٹیبلشمنٹ کو کمزور کرنے کے لیے مشتبہ حملوں کا استعمال کر رہے ہیں لیکن ان سخت گیر گروہوں پر بھی شکوک و شبہات کا اطہار کیا گیا جو اسلام کی اپنی تشریح کے خود ساختہ محافظ کے طور پر کام کرتے ہیں۔
سرگرم سماجی نیوز ایجنسی ہرانا کے مطابق مشتبہ زہر کا معاملہ سب سے پہلے نومبر میں مقدس شہر قم میں سامنے آیا تھا جس کے بعد ایران کے 31 میں سے 28 صوبوں تک پھیل گیا تھا، ان واقعات کے سامنے آنے کے بعد کچھ والدین اپنے بچوں کو اسکول سے نکالنے اور احتجاج کرنے پر مجبور ہوگئے تھے۔