مارچ 29, 2025

ترکیہ اپنی پالیسیوں کے نتائج پر غور کرے. ایران

سیاسیات۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے موقع پر کہا کہ گزشتہ ہفتے لبنان میں شہدائے قدس سید حسن نصر اللہ اور سید ہاشم صفی الدین کے پیکرِ وفا سے الوداعی اجتماع، علاقائی سطح پر قابل دید تھا جس میں کثیر عوامی شرکت حیران کن تھی۔ اس تاریخی اجتماع میں ایران کے اعلیٰ سطحی وفد نے بھی شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ اس روحانی اجتماع میں شرکت کے دوران ہمارے سپیکر “محمد باقر قالیباف” کی لبنان کے حکومتی عہدیداروں سے مثبت ملاقاتیں ہوئیں۔ پریس بریفنگ میں اسماعیل بقائی نے ایرانی وزیر خارجہ “سید عباس عراقچی” کے دورہ جنیوا اور وہاں منعقدہ، انسانی حقوق و ہتھیاروں کی روک تھام کے کنونشنز میں شرکت کی تفصیلات بیان کیں۔ انہوں نے یوکرینی صدر “ولادیمیر زلنسکی” کی امریکی صدر “ڈونلڈ ٹرامپ” کے ہاتھوں توہین آمیز واقعے پر ایران کے تاثرات کا ذکر کیا۔ اس ضمن میں اسماعیل بقائی نے کہا کہ ساری دنیا نے اس واقعے کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور ہر کوئی اپنے ذہن کے مطابق اس واقعے کی تشریح کر سکتا ہے۔ لیکن خطے اور ہمارے لئے جو بات اہم ہے وہ یہ کہ سلامتی کسی بھی ملک کا داخلی مسئلہ ہے۔ اس کے لئے غیروں سے توقع و امید نہیں رکھنی چاہئے۔ مغربی ایشیاء اور خلیج فارس کے ممالک کو بھی چاہئے کہ وہ اپنی سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے اپنے زور بازو پر انحصار کریں۔ ایران کی یہی پالیسی رہی ہے۔

اسماعیل بقائی نے کہا کہ ہم ہمیشہ سے اس بات پر زور دیتے آئے ہیں کہ سلامتی کوئی پروڈکٹ نہیں جسے امپورٹ کیا جا سکے۔ ڈونلڈ ٹرامپ کی یوکرینی صدر کے ساتھ احمقانہ حرکت پر میرا نقطہ نظر یہ ہے کہ بین الاقوامی تعلقات و قانون کے لحاظ سے اس سوال کا جواب دینا خطرے کی گھنٹی ہے کہ کیا بین الاقوامی تعلقات اور سیاست 19ویں صدی میں واپس جانے والے ہیں جب صرف طاقت، دھمکی اور دباؤ ہی ملکوں کے درمیان روابط و تعلقات کی بنیاد تھے۔ حال ہی میں ترک وزیر خارجہ کے غیر ذمہ دارانہ بیان کو لے کر ایک صحافی نے پوچھا کہ کیا دونوں ممالک کے درمیان تعلقات خراب ہو رہے ہیں۔ جس پر ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ہم ترکیہ کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کو نہایت احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ تاہم بعض علاقائی مسائل پر ترکیہ سے ہمارا نظری اختلاف بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ دونوں فریقین کا فن یہ ہے کہ وہ عقلمندی و منطقی رویے کے ساتھ باہمی تعلق کو نقصان پہنچائے بغیر اختلاف رائے اور دو مختلف نظریات کے ساتھ چلتے رہیں۔ ایران کی اب بھی یہی پالیسی ہے۔ جو باتیں میں نے سنیں اور بدقسمتی سے ان کو دُہرایا بھی گیا وہ غیر تعمیری تھیں۔ اس لئے ضروری تھا کہ ایران کو موقف واضح اور روشن ہو۔ خطے میں جو کچھ گزشتہ 3، 4 مہینوں سے ہو رہا ہے، ہم اس کے نتائج شام اور علاقائی سطح پر صیہونی رژیم کے پھیلاو کی صورت میں دیکھ رہے ہیں۔ ہمارے تُرک دوستوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی پالیسیوں کے نتائج اور اثرات کا بغور جائزہ لیں۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ جو چیز ہمارے، ترکیہ یا دوسرے علاقائی ممالک کے مدِنظر ہونی چاہئے وہ یہ کہ ہم علاقائی عوام کے مفاد اور اختلافات سے پاک ایک محفوظ خطہ تشکیل دیں۔ ہم اس کے لئے پُرعزم ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ دوطرفہ روابط اور دونوں ممالک کی عوام کے مفاد کے تحفظ کے لئے ترکیہ بھی قدم اٹھائے گا۔ امید ہے کہ آپ کی مدد سے یہ راستہ جاری رہے گا۔ لبنان کے ساتھ تعلقات کے بارے میں منفی افواہوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ایران و لبنان کے درمیان تاریخی و طولانی تعلقات ہیں۔ ہمارے، لبنانی معاشرے اور مجموعی طور پر وہاں کی حکومت کے ساتھ ہمیشہ اچھے تعلقات برقرار رہے ہیں۔ تہران و بیروت کے درمیان تعلقات اقوام متحدہ کے دو ارکان اور طے شدہ بین الاقوامی قوانین کی اساس پر ہیں۔ اس وقت لبنانی مقاومت کے ساتھ ہمارے قریبی تعلقات ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مقاومت، لبنان کا اٹوٹ انگ اور وہاں کی حکومت کا بہت ہی مددگار عنصر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہمارے درمیان کبھی کوئی ایشو پیدا بھی ہو تو کھلے ذہن کے ساتھ دوطرفہ بات چیت کے ذریعے اسے حل کیا جاتا ہے۔ ہمارا یہ طرز عمل جاری ہے۔ حال ہی میں ہمارے اعلیٰ حکام کی لبنان کے سینئر عہدیداروں سے ملاقاتیں بہت اچھی رہیں۔

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

sixteen + four =