سیاسیات۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزیشکیان نے عید الفطر کے موقع پر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو ٹیلی فون کال کی۔ ایرانی صدر نے سعودی ولی عہد سے گفتگو میں کہا کہ ایران جنگ کا خواہاں نہیں اور نہ ہی ایٹمی ہتھیاروں کو اپنے ڈاکٹرائن کا حصہ سمجھتا ہے، لیکن ایران کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ سرکاری نیوز ایجنسی ارنا کے مطابق صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے جمعرات تین اپریل 2025 کی رات سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو میں انہیں، سعودی فرمانروا اور اس ملک کے عوام کو عیدالفطر کی مبارکباد پیش کی۔
انھوں نے رمضان المبارک کی عبادات، قرآن کریم اور اس مبارک مہینے کو مسلمانوں کے مشترکات کی یاد دہانی کے لئے بہترین موقع قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسلمان ممالک اپنے مشترکات کی بنیاد پر وحدت اور یکجہتی کے ذریعے پورے خطے کے لئے میں اعلی ترین سطح پر امن و سلامتی اور پیشرفت کا ماحول برقرار رکھ سکتے ہیں۔ صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے کہا کہ اگر ہم ایک دوسرے سے متحد ہوجائيں تو بعض اسلامی ملکوں منجملہ فلسطین اور غزہ کے عوام کے خلاف ظلم و جارحیت کو روک سکتے ہیں۔ ایرانی صدر نے مسلمان اور پڑوسی ملکوں کے اتحاد و تعاون کے بارے میں سعودی ولی عہد کے بیان اور نظریات کی قدردانی کی۔
انہوں نے سعودی ولی عہد سے کہا کہ جیسا کہ آپ نے خود کہا ہے کہ اگر اسلامی ممالک ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ لیں تو غزہ کے مظلوم عوام کے خلاف صیہونی حکومت کے جرائم کو روک سکتے ہیں، امن و استحکام قائم کرسکتے ہیں اور علاقے کی ترقی کے لئے زیادہ سے زيادہ مواقع فراہم کر سکتے ہیں۔ ایرانی صدر نے اپنی گفتگو کے ایک اور حصے میں سعودی ولی عہد کی گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کبھی جنگ طلب نہیں رہا، ایٹمی توانائی سے متعلق سرگرمیاں، ماضی کی طرح آئندہ بھی مکمل طور پر فیکٹ چیکنگ مانیٹرنگ میں رہ سکتی ہیں۔
ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران دو طرفہ مفادات اور باہمی احترام کی بنیاد پر بعض اختلافات کو برطرف کرنے کے لئے مذاکرات اور افہام و تفہیم کے لئے تیار ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم کسی بھی ملک سے جنگ نہيں چاہتے، لیکن اپنے دفاع میں تردد سے ہرگز کام نہیں لیں گے اور اس حوالے سے ہماری صلاحیت اور آمادگی آخری سطح تک ہے۔ دوسری جانب سعودی ولی عہد نے بھی ایران کے صدر اور عوام کو عیدالفطر کی مبارکباد پیش کی اور کہا کہ امید ہے کہ ہم باہمی تعاون بڑھا کر خطے کی سلامتی، استحکام اور ترقی کے لئے زیادہ کامیابیاں حاصل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب علاقے میں ہر قسم کی کشیدگی اور بدامنی دور کرنے میں مدد کے لئے تیار ہے۔