سیاسیات- ان دنوں اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ “حسین امیر عبداللہیان” اپنے لبنانی ہم منصب کی دعوت پر بیروت میں موجود ہیں، جہاں انہوں نے گزشتہ روز لبنان کی مقاومتی تحریک حزب الله کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصر الله سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں سید حسن نصر الله اور حسین امیر عبداللہیان نے خطے کی تازہ ترین صورتحال، ایران اور سعوی عرب کے درمیان سفارتی تعلقات کی از سر نو بحالی کے معاہدے و خطے کے ممالک پر اس کے اثرات، لبنان کی حالیہ پیشرفت اور فلسطین میں پیش آنے والے حالات کے بارے میں تفصیلاََ گفتگو کی۔ اس موقع پر بیروت میں ایرانی سفیر “مجتبیٰ امانی”، وزارت خارجہ میں مغربی ایشیاء و شمالی افریقہ کے ڈائریکٹر “مہدی شوشتری”، سینئر مشیر خارجہ برائے سیاسی امور “علی اصغر خاجی” اور بیروت میں سابق ایرانی سفیر و وزارت خارجہ کے مالی امور کے نائب سربراہ “محمد فتح علی” موجود تھے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز ایرانی ڈپلومیٹک سربراہ نے لبنان کے وزیر خارجہ “عبدالله بوحبیب”، وزیراعظم “نجیب میقاتی” اور اسپیکر “نبیہ بیری” سے ملاقاتیں کیں۔ اپنے لبنانی ہم منصب کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران، لبنان کی بہتری کے سوا کچھ نہیں چاہتا۔ انہوں نے کہا ہم تمام لبنانی جماعتوں کو صدر کے جلد انتخاب اور اس ملک میں سیاسی عمل کو مکمل کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔ نیز گزشتہ روز فلسطین کی مقاومتی تحریک “جہاد اسلامی” کے سیکرٹری جنرل زیاد النخالہ نے بھی حسین امیر عبداللہیان سے بیروت میں ملاقات کی اور دو طرفہ دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔ اس ملاقات میں زیاد النخالہ نے صیہونی رژیم کے بڑھتے ہوئے داخلی بحران کو مقاومت اور فلسطینی عوام کے خلاف قابض صیہونیوں کی بے بسی اور کمزوری قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل رو بہ زوال ہے۔