مارچ 30, 2025

امریکہ منافقت چھوڑ کر حقیقت پسندی اختیار کرے تو معاہدہ ممکن ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ

سیاسیات- ایرانی وزير خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے اپنے حالیہ دورہ عراق کے بارے عرب ٹیلیویژن چینل العالم کے ساتھ تفصیلی گفتگو کی ہے جس کے دوران انہوں نے دونوں ممالک کے تجارتی و سکیورٹی تعلقات، تہران میں عنقریب منعقد ہونیوالی ماحولیاتی تحفظ کی عالمی کانفرنس، عراقی کردستان میں ایران مخالف دہشتگرد گروہ کی موجودگی، تہران ریاض مذاکرات، ثالثوں کے ذریعے موصولہ امریکی پیغامات اور امریکہ کیساتھ معاہدے کے حصول کے امکان پر روشنی ڈالتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اگر امریکی فریق حقیقت پسندی اختیار کرے اور منافقانہ رویہ ترک کر دے تو معاہدہ ممکن ہے۔ اس موقع پر انہوں نے عراقی وزیر خارجہ کے ذریعے موصول ہونے والے امریکی پیغام کے بارے کہا کہ جناب فواد حسین اپنے واشنگٹن کے دورے سے واپسی پر یہ پیغام لائے تھے کہ امریکی حکام معاہدہ کرنے کو تیار ہیں جبکہ ہم نے بھی ہمیشہ سفارت کاری و مذاکرات کا خیرمقدم کیا اور کبھی مذاکرات سے دوری اختیار نہیں کی۔ امیر عبداللہیان نے تاکید کی کہ اب تک ویانا میں ہونے والے مذاکرات اور امریکی فریق کے ساتھ ثالثوں کے ذریعے ان لکھے پیغامات کے تبادلے کی صورت میں ہونے والے اتفاق نظر کہ جس میں اسلامی جمہوریہ ایران کی ریڈ لائنوں سمیت تمام فریقوں کے مفادات شامل ہیں؛ کے تحت ہم ایرانی جوہری معاہدے (JCPOA) کے ذیل میں تمام فریقوں کے ہمراہ عہدوپیمان پر عملدرآمد کے لئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ اگر امریکی فریق اپنے بھیجے گئے پیغامات کے فریم ورک میں رہتے ہوئے حقیقت پسندانہ برتاؤ اختیار کرتا ہے اور میڈیا پر جاری ہونے والے اپنے سابقہ ​​منافقانہ بیانات کو نہیں دہراتا تو ہم ممکنہ معاہدے کے حصول سے دور نہیں۔

حسین امیر عبداللہیان نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ اگر امریکی حکام اپنی منافقت ترک کر دیں تو معاہدہ ممکن ہے، مزید کہا کہ جو کچھ امریکیوں کی جانب سے نقل کیا گیا ہے اس سے سمجھا جا سکتا ہے کہ معاہدے کا حصول ممکن ہے جبکہ بظاہر امریکی فریق بھی معاہدے کے حتمی کرنے کے لئے قدم بڑھانے سے متعلق پیغامات ارسال کر رہے ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ امریکیوں کے سفارتی و میڈیا پیغامات ہمیشہ تضاد پر مبنی ہوتے ہیں؛ یعنی وہ سفارتی چینل پر انتہائی مثبت و تعمیری جبکہ میڈیا پر انتہائی منفی و تخریبی بیانات جاری کرتے ہیں البتہ ہمیں امید ہے کہ امریکی فریق حقیقت پسندی اختیار کرتے ہوئے منافقانہ رویہ ترک کر دے گا۔ اس حوالے سے اپنی گفتگو کے آخر میں انہوں نے کہا کہ یہ امریکی فریق ہی ہے کہ جو اپنے عہدوپیمان سے یکطرفہ طور پر خارج ہوا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس (امریکہ) کی جانب سے شرطیں لگانے اور گمراہ کن و متضاد بیانات دینے سے مسئلہ حل ہو گا اور نہ ہی امریکہ اس معاہدے پر عدم عملدرآمد کے برے نتائج سے بچ پائے گا لہذا امریکہ کو چاہیئے کہ وہ متضاد بیانات دینا بند کرے اور اپنی غلطیاں تسلیم کرتے ہوئے ان کا مداوا کرنے کی کوشش کرے البتہ تینوں یورپی ممالک کو بھی اس حوالے سے اپنا تعمیری کردار ادا کرنا اور تجزیئے و حساب کتاب میں غلطی سے بچنا چاہیئے!

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

13 − 8 =