اپریل 5, 2025

کربلا ایک سیاسی سماجی تربیت گاہ (تیسرا اور آخری حصہ)

تحریر: محمد حسنین امام

کتاب”اعیان الشیعہ ”میں حضرت عباس ؑ کا جواب اس طرح سے موجود ہے

”تبت یداک ولعن ما جئتنا بہ من امانک یا عدواللّٰہ اتأمرنا ان نترک اخانا وسیدنا الحسین بن فاظمہ وندخل فی طاعۃ اللعناء ”

” اے دشمن خدا !وای ہو تجھ پر ، لعنت ہو تمہارے امان پر ۔کیا تم یہ کہتے ہو کہ ہم اپنے بھائی وآقا حسین ؑابن فاطمہؑ کو چھوڑ دیں اور لعینوں کی اطاعت کریں”۔

(اعیان الشیعہ ج١١ص٤٧٧)

دریا ئے فرات پر جب آپ کا قبضہ ہوااس وقت آپ تین دن سے پیاسے تھے اور پانی آپ کی دسترس میں تھا لیکن آپ فرماتے ہیں کہ:

”واللّٰہ لا اذق الماء وسیدی الحسین عطشاناً”

“خدا کی قسم میں پانی کو نہیں چکھوں کا کیونکہ میرا آقا حسین پیا ساہے”۔

عباس کی وفا ایسی تھی کہ دشمن بھی تعریف کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔جب وہ علم جسے حضرت عباس نے اٹھایا ہوا تھا یزید کے دربار میں پیش کیا جاتا ہے تو یزید دیکھتا ہے کہ اس پرچم میں کوئی جگہ سالم نہیں ہے اور پوچھتا ہے کہ اس علم کوکس نے اٹھارکھاتھا ۔ جواب ملا عباس ابن علی ؑ،تو کہنے لگا :

“ھکذا یکون وفا الاخ لاخیہ”

” بھائی کی وفاداری بھائی سے اس طرح ہونی چاہیے”۔

امام ؑ کے عزیزوں کے علاوہ آپ ؑ کے اصحاب بھی وفا کے پیکر تھے ۔ عمرو بن قرظہ روز عاشور دشمنوں کے تیروں کے سامنے امام ؑ کے لئے سپر بنتے ہیں تاکہ امامؑ پر کوئی آنچ نہ آنے پائے اس قدر زخمی ہو گئے کہ زخموں کی تاب نہ لا کر گر پڑے اور حضرت سے پوچھنے لگے : اے فرزند رسول !کیا میں نے وفا کی ہے ۔ حضرت نے جواب دیا :ہاں! تم مجھ سے پہلے بہشت جا رہے ہو ،رسول خداؐ کو میرا سلام کہنا۔(بحارالانوار ج٤٥ص٢٢)

حضرت مسلم ابن عوسجہ فرماتے ہیں کہ :”واللّٰہ لو علمت انی اقتل ثم احیا ثم احرق ثم احیا ثم اذری یفعل بی ذالک سبعین مرۃ ما فارقتک”

(الارشاد ج ٢ص٩٢)” خدا کی قسم ! اگر مجھے یہ معلوم ہو کہ مجھے قتل کیا جائے گا پھر زندہ کیا جائے گا اور جلاکر راکھ کیا جائے پھر اسے ہوا میں اڑایا جائے گا، اسی طرح ستر بار یہ عمل دہرایا جائے تب بھی میں آپ کوچھوڑوں کر نہیں جاؤں گا”۔بڑے تو بڑے ہیں کربلا میں ہمیں بچے بھی وفا کے علمبردارنظر آتے ہیں ۔ شام غریبان میں جب حضرت سکینہ کو پانی دیا گیا تو آپ پانی کو لے کر مقتل کی طرف جانے لگتی ہیں تاکہ اپنے چھوٹے بھائی علی اصغر کو پانی پلائے جبکہ حضرت سکینہ تین دن سے پیاسی ہیں۔

حکمرانی کا حق:

کربلا کا واقعہ اسلامی سیاست کے خدّوخال کی نقشہ نگاری کا واقعہ ہے۔ یہ واقعہ ایک سچے مسلمان کیلئے میدانِ سیاست میں نشانِ عمل ہے۔ کربلا حسینیوں کو انکے سیاسی سفر کی جہت دکھاتی ہے اور کربلا نہ فقط سن 61 ہجری میں وقت کے یزید اور یزیدی سیاست سے ٹکرائی تھی بلکہ کربلا آج بھی اور کل بھی وقت کے یزید اور اسکے دیئے گئے ہر یزیدی سیاسی نظام اور نظریے سے ٹکرائے گی۔ کیوں؟ اس لئے کہ کربلا کی تہ میں خدائے لم یزل و لایزال کے لازوال قانونِ شریعت کے بانی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا دیا ہوا وہ سیاسی ایجنڈا کارفرما ہے جسکا اعلان حضرت امام حسین ع نے بیضہ کے مقام پر حر کے لشکر کے سامنے خطبہ دیتے ہوئے ان الفاظ میں فرمایا تھا:”اے لوگو! رسول خدا ص نے فرمایا: جس نے بھی کسی ستمگر، خداوند تعالی کی حرام قرار دی گئی چیزوں کو حلال قرار دینے والے، عہد الہی کو توڑنے والے، رسول اللّہ ص کی سنّت کے مخالف اور اللّہ کے بندوں کے ساتھ گناہ اور ظلم کا سلوک روا رکھنے والے حاکم کو پایا اور اسے ہٹانے کی کوشش نہ کی اور اپنے قول یا فعل کے ذریعے سے اسکی مخالفت نہ کی تو خداوند عالم یقینا اسے بھی وہی ٹھکانہ دے گا جس میں ایسے حاکم کو ٹھہرایا جائے گا”۔

بنابرایں، کربلا آج بھی سجی ہوئی ہے اور کربلا کے شہیدوں کے قافلے میں شریک ہونے کا موقع آج بھی میّسر ہے، کیونکہ آج بھی وہ حکمران موجود ہیں جو خدا کے حلال کو حرام قرار دینے کے درپے ہیں۔ پس کربلا کا مشن اور ایجنڈا آج بھی جاری ہے۔ اور یہ افسوس دکھانے کی کوئی گنجائش باقی نہیں ہے کہ”اے کاش! ہم کربلا کے میدان میں ہوتے تو ہم بھی عظیم کامیابی سے ہمکنار ہو جاتے”۔

اگرچہ واقعہ ہائلہ کربلا فقط اکسٹھ ہجری میں اختتام پذیر ہوچکا مگر کربلا کا پیام اب بھی باقی ہے اس کے آثار اب بھی موجود ہیں کربلا آج بھی ہر طاغوت کے خلاف نبرد آزما ہے کربلا کا پیغام عالمگیر ہے ہر باطل حکومت کے خلاف قیام کا شعور دیتی ہے۔

نمونہ عمل:

انسان کی زندگی میں نمونہ عمل کا اہم کردار ہوتا ہے ہر انسان اپنی جبلت اور فطرت کے تحت کسی کو اپنا لیے نمونہ عمل قرار دیتا ہے یہ جو مقولہ مشہور ہے کہ بچے والدین اور بڑوں کو دیکھ کر دیکھتے ہیں ہیں اس کا مطلب یہی ہے کہ وہ ونہیں نمونہ عمل سمجھتے ہیں پس امام حسین علیہ السلام نے اپنے وصیت نامے میں جہاں اصلاح امت کی بات کی تو ساتھ اپنی روش بھی بھی فرمائی ۔

“ارید ان امر بالمعروف و انھی عن المنکر و اسیر بسیرۃ جدی و ابی علی ابن ابی طالب””میں امر بالمعروف اور نہی عن لمنکر کرنا چاہتا ہوں،اور میں اپنے نانا اور اپنے باپ کی سیرت پر عمل کرنا چاہتا ہوں”۔یہاں امام عالیمقام اپنے نانا اور بابا کو اپنے لیے مثالی کردار کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں پس ہر انسان کے لیے ایک مثالی کردار ہوتا ہے جس کی سیرت و صورت کو وہ عملی طور پر اپناتا ہے اس کی تہذیب وتمدن، لباس، اطوار و عادات، زبان اور گفتار اپنے کردار کے قالب میں ڈھالتا ہے۔

ایک اور جگہ امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ”تمہارے نفسوں کی قیمت جنت ہے لہذا اس سے کم قیمت پر نہ بیچو۔”

پس عاقل انسان کبھی خسارے کا سودا نہیں کرتا اب ہمیں بھی چاہیے کہ اپنے لیے ایک ایسا مثالی کردار بنائیں جس نے خود کسی طور پر جنت سے کم قیمت پر پیش نہ کیا ہو بلکہ جنت سے بڑھ کر اپنی قدر و منزلت پائی ہو جیسے ارشاد باری تعالیٰ ہے

وَ رِضۡوَانٌ مِّنَ اللّٰہِ اَکۡبَرُ ؕ ذٰلِکَ ھُوَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِیۡمُ

اور اللہ کی طرف سے خوشنودی تو ان سب سے بڑھ کر ہے، یہی تو بڑی کامیابی ہے۔

کیونکہ خوشنودی خدا ہی ایسی بڑی کامیابی ہے جس کے سامنے جنت کی دائمی نعمات بھی کم تر نظر آتی ہیں پس یہ ہستیاں وہ محمد و اہل بیت محمد ہیں جو انسان اکمل کے درجہ پر فائز ہیں اور اکمل کو چھوڑ کر ناقص کی طرف میلان یقینا دنیا و آخرت میں رسوائی اور ذلت کا سبب ہے۔

لیکن آج ہمیں اپنے سماج میں اس چیز جی شدید کمی محسوس ہورہی ہے اسلامی ثقافت کو گھٹیا اور پست گردانا جاتا ہے اداکاروں اور انسان زدہ تہذیب کا عنصر غالب نظر آتا ہےپیام حسینی سے مکمل انحراف ہے جبکہ زبانی ، کلامی طور پر طورپر تحر یک کربلاء کے علمبردار بنے ہوئے ہیں جبکہ اہل بیت مخالف نظریات کا پرچار، مغربی تمدن کی اتباع، اسلامی تعلیمات سے روگردانی آج کے مسلمانوں کا وتیرہ بن چکا ہے۔

جبکہ قرآن ہمیں انبیاء کا راستہ دکھاتا ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔

” آلرٰ کِتٰبُ اَنْزَ لْنٰه اِلَيکَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ بِاِذْنِ رَبِّهمْ اِلٰی صِرَاطِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ”

“ا لر ،یہ(عظیم) کتاب ہم نے آپ کی طرف نازل کی ہے کہ آپ لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر نور کی طرف لائیں، ان کے پروردگار کے حکم سے (اس سیدھے) راستے کی طرف جو زبردست اور تعریفوں والے اللہ کا ہے “۔

یہی مقصد امام عالی مقام علیہ السلام کا تھا کہ یہ امت اب اندھیروں میں گھِری ہوئی ہے ، گمراہ ہو چکی ہے، فاسد ہو چکی ہے لہٰذا اس کو نور کی طرف لایا جائے اسی طرح جس طرح رسول اﷲ صلّی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلّم نے اس امت کو گمراہی سے نکالا تھا تاکہ عدل و انصاف اور امن و امان کا قیام ہو۔

اسی طرح امام علی علیہ السلام ارشاد فرناتے ہیں:۔

”والَّذِی بعثه بالحق لتبلبلُنَّ بلبلة ولتغربلنّ غربلة ولتساطنّ سوط القدرحتّٰی يعود اسفلکم اعلاکم و اعلاکم اسفلکم وليسبقنّ السّابقون کانوا قصروا وليقصرنّ سبّاقون کانوا سبقوا”

“اس ذات کی قسم !جس نے رسول صلّی اﷲ علیہ و آلہ وسلّم کو حق کے ساتھ مبعوث کیا تم بری طرح تہ و بالا کیے جاؤگے اور اس طرح چھانٹے جاؤگے جس طرح چھلنی سے کسی چیز کو چھانا جاتا ہے اور اس طرح خلط ملط کیے جاؤگے جس طرح چمچے سے ہنڈیا۔ یہاں تک کہ تمہارے ادنیٰ اعلیٰ اور اعلیٰ ادنیٰ ہو جائیں گے ، جو پیچھے تھے وہ آگے بڑھ جائیں گے اور جو ہمیشہ آگے رہتے تھے وہ پیچھے رہ جائیں گے”۔

(نہج البلاغہ خطبہ ١٦، ج ١، ص ٤٧ مفتی محمد عبدہ)

امام حسین علیہ السلام بھی اپنے والد بزرگوار کی طرح اس امت کی اصلاح کرتے ہوئے حق و عدل کو قائم اور امن و امان کا قیام کرنا چاہتے ہیں۔

امام علیہ السلام کے اس جملے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اگر لوگوں نے حق کا ساتھ دیا تو دین خدا سر بلند ہوگا اور معاشرہ میں امن و امان اور عدل و انصاف قائم ہوں گے ۔ اگر لوگوں نے ساتھ نہ دیا تو خدا ان سے مواخذہ ضرور کرے گا اور انہیں مصیبت میں مبتلا کرے ۔ لیکن لوگ سلاطین کے ظلم و استبداد کے سامنے سر نگوں رہے انہوں ان مقدس ہستیوں کے کردار سے فائدہ نہ اٹھایا اور ظلم کے خلاف خاموش رہے تو بعد میں مصیبتوں میں گرفتار ہوئے اور ظالموں حاکموں کا سامنا کرنا پڑا۔ کاش کہ حق کا ساتھ دیتے تو معاشرہ میں عزت و وقار اور سکون و اطمینان کے ساتھ زندگی بسر کرتے افسوس کہ ایسا نہیں کیا۔

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

7 + 8 =