اپریل 5, 2025

جی بی اسمبلی کی ڈرامائی صورتحال، پی پی کے تین اراکین مستعفی

سیاسیات-گلگت بلتستان کی سیاست میں ڈرامائی صورتحال پیدا ہوگئی۔ پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر سمیت تین ارکان جی بی اسمبلی نے پارٹی کی مرکزی قیادت کے فیصلے کیخلاف احتجاجاً اسمبلی رکنیت سے استعفیٰ دیدیا۔ پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی غلام شہزاد آغا نے تصدیق کی ہے کہ پارٹی کے چاروں اراکین اسمبلی نے استعفیٰ دیدیا ہے، تاہم خاتون رکن اسمبلی سعدیہ دانش نے ابھی تک تصدیق یا تردید نہیں کی۔ تفصیلات کے مطابق پارٹی کی مرکزی قیادت نے جی بی کے نئے وزیراعلیٰ کیلئے وزیراعظم کی جانب سے نامزد کردہ امیدوار حاجی گلبر خان کو ووٹ دینے کی ہدایت کی تھی، جس پر پارٹی کے صوبائی قائدین سیخ پا ہوگئے اور مرکزی قیادت کے فیصلے کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے اسمبلی رکنیت سے استعفے پیش کر دیئے۔

ذرائع کے مطابق پیر کے روز پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے گورنر گلگت بلتستان کو فون کرکے پارٹی کے فیصلے سے آگاہ کیا اور کہا کہ وزیراعلیٰ کے انتخاب میں پیپلز پارٹی کے تمام ارکان حاجی گلبر خان کو ووٹ دیں۔ گورنر نے آصف زرداری کا پیغام پارٹی کے صوبائی صدر امجد حسین ایڈووکیٹ تک پہنچایا، جس پر وہ طیش میں آگئے اور فیصلہ ماننے سے انکار کر دیا۔ ذرائع کے مطابق اتوار کے روز امجد ایڈووکیٹ اور قمر زمان کائرہ کے درمیان بھی سخت جملوں کا تبادلہ ہوا تھا۔ دوسری جانب پیر کی رات پی پی کے صوبائی سیکرٹریٹ کے باہر کارکنوں کی بڑی تعداد امجد ایڈووکیٹ سے اظہار یکجہتی کیلئے جمع ہوگئی اور امجد کے حق میں نعرے بازی کی۔ اس موقع پر کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے امجد حسین ایڈووکیٹ نے کہا کہ بعض ناگزیر وجوہات کی بنیاد ہر ہم نے استعفیٰ پیش کر دیا ہے، قمر زمان کائرہ کو بھی بھیج دیا ہے اور وہ کل یہاں آرہے ہیں۔

انہوں نے کچھ چیزوں کی یقین دہانی بھی کرائی ہے اور ذمہ داری بھی اٹھائی ہے اور امید ہے کہ قمر زمان کائرہ معاملے کو حل کرینگے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ہم کسی عہدے کے امیدوار نہیں۔ اس لیے ہم کسی کی مخالفت کرینگے نہ ہی حمایت کرینگے۔ کیونکہ کچھ لوگوں نے وزیراعلیٰ کے انتخاب کے معاملے کو فرقہ وارانہ رنگ دیا ہے۔ یہ اس علاقے کیساتھ ظلم ہے، کچھ لوگ اپنے مفادات کیلئے اس خطے کو فرقہ واریت کی آگ میں دھکیلنا چاہتے ہیں، جس کی ہم مذمت کرتے ہیں۔ ایسے عہدوں کو فرقہ وارانہ رنگ نہیں دینا چاہیئے۔ ایسے حالات میں ہم اس کھیل کا حصہ نہیں بنیں گے۔ دریں اثنا پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی غلام شہزاد آغا سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کے تمام ارکان اسمبلی نے استعفے دیئے ہیں، مزید صورتحال کل تک واضح ہو جائے گی۔

خیال رہے کہ حاجی گلبر خان تحریک انصاف کی حکومت میں وزیر صحت تھے۔ گذشتہ ہفتے سپریم اپیلیٹ کورٹ نے وزیراعلیٰ کو نااہل کر دیا، جس کے بعد جی بی میں تحریک انصاف کی حکومت ختم ہوگئی اور نئے وزیراعلیٰ کیلئے جوڑ توڑ شروع ہوگیا۔ صورتحال اس وقت ڈرامائی رخ اختیار کر گئی جب وزیراعظم شہباز شریف نے تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے سابق وزیر صحت حاجی گلبر خان کو نئے وزیراعلیٰ کا امیدوار نامزد کر دیا، جس پر جی بی کی لیگی قیادت بھی حیران رہ گئی۔ وفاق میں اتحادی ہونے کے ناتے پیپلز پارٹی کو بھی یہ فیصلہ ماننا پڑا، تاہم صوبائی قیادت نے مرکزی قیادت کے اس فیصلے کیخلاف بغاوت کر دی۔ دوسری جانب رات گئے گورنر اور سپیکر جی بی اسمبلی کی اہم ملاقات ہوگئی ہے، جس میں استعفیٰ کے معاملے پر غور کیا گیا ہے۔ دوسری جانب پی پی کی مرکزی قیادت نے استعفے کا نوٹس لیتے ہوئے قمر زمان کائرہ کو فوری گلگت پہنچنے کا حکم دیا ہے۔

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

15 − ten =